Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89091
Published : 10/12/2015 19:0

اقوام متحدہ میں روسی نمائندے کی، ترکی پر نکتہ چینی

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویتالی چورکین نے عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی کو بلاجواز اور ناقابل توجیہ اقدام قرار دیا ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس کے سفیر نے بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترک فوج کے عراق میں داخلے کے معاملے کو اجلاس میں اٹھایا ہے۔ ویتالی چورکین نے کہاکہ روس سمجھتا ہے کہ عراقی حکومت کی اجازت کے بغیر عراق کے اندر ترک فوجیوں کی تعیناتی بلاجواز ہے۔ انہوں نے ترکی کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ اس نے داعش کے مقابلے کے لیے اپنے فوجی عراق میں داخل کئے ہیں۔اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ترکی نے عراقی حکومت سے اس کی پیشگی اجازت کیوں نہیں لی ۔

ترکی نے چار دسمبر کو اپنے ایک سو پچاس کے قریب فوجیوں کو بیس سے پچیس ٹینکوں اور دیگر بھاری اسلحوں کے ساتھ شمالی عراق کے صوبے نینوا کے صدر مقام موصل روانہ کیا تھا۔ ترک فوجی موصل کے نواحی علاقے بشیقہ میں تعینات ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ علاقے کے سیاسی اور صحافتی حلقے ترکی کے حالیہ اقدامات کو خطے کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

اکثر مبصرین کا خیال ہےکہ ترک صدر رجب طیب اردوغان کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ علاقے کے بحرانوں میں نیٹو کو گھسیٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ علاقے کے سیاسی اور صحافتی حلقوں کے مطابق ترک صدر نیٹو کو الجھا کر خطے کے مسلمان ملکوں کے لیے کئی طرح کے بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ عراق اور شام کے بحرانوں میں بھی ترکی کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16