Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89110
Published : 11/12/2015 15:43

عراق بین الاقوامی اداروں میں ترکی کی شکایت کرے گا

عراقی وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے کہا ہے کہ عراق سے اپنے فوجی نہ نکالنے کی بنا پر بغداد بین الاقوامی اور علاقائی اداروں میں ترکی کی شکایت کر ےگا۔

ابراہیم جعفری نے داعش مخالف نام نہاد اتحاد میں امریکی صدر کے خصوصی نمائندے "برٹ مک گورک" کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ بغداد نے عراقی سرزمین کے خلاف انقرہ کی کھلی جارحیت کے بعد تمام سفارتی اقدامات انجام دیئے ہیں اور ترک فوجیوں کے انخلا نہ کرنے کی صورت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کی شکایت کی جائے گی۔ عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ بغداد نے ترکی کو اپنے فوجی واپس بلانے کی جو مہلت دی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور بغداد اپنے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی روکنے اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لئے سلامتی کونسل، عرب لیگ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عراقی وزارت خارجہ نے تمام سفارتی اقدامات انجام دے دیئے ہیں اور بغداد میں ترکی کے سفیر کو بھی طلب کیا جا چکا ہے۔

عراقی وزیر نقل و حمل باقر جبر الزبیدی نے بھی عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی کو عراق کی سیکورٹی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ باقر جبر الزبیدی نے کہا کہ بعشیقہ علاقے میں ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر اسلحے کے ساتھ ایک ہزار سے زیادہ ترک فوجیوں کی موجودگی عراق کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عراق کے پاس ایف سولہ، سوخوئی اور دیگر لڑاکا طیارے ہیں اور وہ ہر قابض کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ باقر جبر الزبیدی نے کہا کہ داعش کے بعض کمانڈروں کے، ترکی کے ساتھ رابطے رہے ہیں اور وہ تیل برآمد کرتے نیز ترکی کی خفیہ ایجنسی سے ہدایات حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ داعش کو وجود میں لائے ہیں ان کا مقصد علاقے اور علاقے کے ممالک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔

ادھر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے دعوی کیا ہے کہ ترک فوج حکومت عراق کی درخواست پر دو ہزار چودہ سے عراق کے شمال میں تعینات ہوئی ہے۔ روئیٹرز کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوغان نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی نے درخواست کی تھی کہ عراقی فوجیوں کو تربیت دی جائے اور انقرہ نے بھی ان کی درخواست پر دوہزار چودہ میں بعشیقہ علاقے میں فوجی کیمپ قائم کئے۔ اردوغان نے دعوی کیا کہ عراقی وزیر اعظم نے علاقائی حالات کی بنا پر آج تک اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراقی وزارت خارجہ نے ترکی کے سفیر کو طلب کرکے سیکڑوں ترک فوجیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا کہ جو حال ہی میں عراق کے شمال میں خاص طور سے موصل شہر کے نزدیک ( جہاں داعش کا کنٹرول ہے) داخل ہوئے ہیں۔ عراقی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ترک فوجی، حکومت عراق کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر عراق میں داخل ہوئے ہیں اور عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی بغداد کی نظر میں ایک دشمنانہ اقدام ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11