Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89520
Published : 18/12/2015 12:33

نائیجیریا میں حالیہ حملوں میں شہداء کے جنازوں کی بے حرمتی

نائیجیریا میں فوج نے اپنے وحشیانہ جرائم کی پردہ پوشی کے لئے ، حالیہ وحشیانہ حملوں میں شہید ہونے والے سیکڑوں مسلمانوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ فوجیوں نے شہیدوں کے جنازوں کی بے حرمتی بھی کی اور قیمتی اشیاء چرالی ہے۔

نائیجیریا کے سرگرم سیاسی کارکنوں نے انکشاف کیا ہے کہ نائیجیریا کی فوج نے زاریا سانحے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کرنے کے ساتھ ساتھ بعض لاشوں کو جلا دیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کے سرگرم سیاسی کارکنوں نے بدھ کی رات اعلان کیا ہے کہ نائیجیریا کی حکومت اور فوج نے زاریا سانحہ میں اپنے جرائم کے ثبوت مٹانے کے لیے جان بحق ہونے والے مسلمانوں کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا ہے اور ان میں سے بعض کو جلایا بھی ہے۔

ان افراد کا مزید کہنا تھا کہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ نائیجیریا کی فوج نے اسلامی تحریک کے کتنے افراد کا قتل عام کیا ہے اس بنا پر وہ اس سلسلے میں ہر قسم کے ثبوت و شواہد کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس کے جرائم منظرعام پر نہ آ سکیں۔

ان افراد کا کہنا تھا کہ اگر نائیجیریا کی فوج کے پاس اس قتل عام اور اپنے جرائم کے لیے کوئی قابل قبول وجہ ہوتی تو وہ ہرگز ان لاشوں کو خفیہ طور پر دفن نہ کرتی اور نہ ہی انھیں جلاتی۔

دوسری طرف نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے ایک سرگرم کارکن محمد مھدی گربا اور دیگر عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ فوجیوں نے قتل عام کے بعد شہیدوں کی بے حرمتی بھی کی ہے۔ محمد مھدی گربا نے رسا نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک گفتگو میں بتایا ہے کہ نائیجیرین فوجیوں نے قتل عام کے بعد شہیدوں کے جنازوں کی بے حرمتی کی اور ان کی جیبوں سے موبائل گھڑیاں اور دیگر اشیا کی چوری کی ۔

انھوں نے بتایا کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجلس عزا میں جمع ہوئے تھے کہ آرمی چیف بہت سے فوجیوں کے ساتھ پہنچا اور بلاوجہ اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ۔ انھوں نے کہا کہ فوجیوں نے شہر زاریا میں اسلامی تحریک کے سربراہ آیت اللہ ابراہیم زکزکی کو بھی گولیاں مارکر زخمی کیا اور پھر انہیں زخمی حالت میں گرفتار کرلیا ۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے ہاتھوں شیعہ مسلمانوں کے بے رحمانہ قتل عام میں حکومت بھی شریک ہے۔

واضح رہے کہ نائیجیریا کی فوج نے اتوار کے روز اسلامی تحریک پر فوج کے سربراہ کو قتل کرنے کی کوشش اور اسی طرح اجتماعات کی وجہ سے راستے بند کرنے کا الزام لگاتے ہوئے زاریا شہر میں بقیۃ اللہ امام بارگاہ اور اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم الزکزاکی کے گھر پر حملہ کر کے سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کر دیا۔

شیخ ابراہیم الزکزاکی کی بیٹی نصیبہ الزکز کی نے قتل ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کہا ہے کہ زاریا سانحہ میں تقریبا ساڑھے چار سو افراد مارے گئے ہیں اور تقریبا تین سو لاشیں بھی اسپتال میں ہیں اور مجموعی طور پر مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔

دوسری طرف لبنان کی پیپلز کانگرس پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں صیہونی حکومت کی خفیہ تنظیم ملوث ہے۔ لبنان کی اس سیاسی جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس قتل عام کا مقصد نائیجیریا میں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنا ہے۔ لبنان کی پیپلز کانگرس پارٹی کے رہنماؤں نے مسلم علمائے کرام سے اپیل کی ہے کہ تکفیری اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف متحد ہوکے آواز اٹھائیں اور اپنے ماننے والوں کو تکفیری تحریک کے حقائق سے آگاہ کریں-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17