Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89759
Published : 21/12/2015 21:22

دہشت گرد ی کے خلاف کیا جانے والا ہر اقدام بین الاقوامی قوانین کے د ائرے میں ہونا چاہیے: ایران

اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ دہشت گرد ی کے خلاف کیا جانے والا ہر اقدام بین الاقوامی قوانین کے د ائرے میں اور خاص طور پر دوسرے ملکوں کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا احترام مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہئے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں عراق میں ترکی کی فوجی موجودگی جاری رہنے کے بارے میں ہمارے نمائندے کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ترک حکومت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ دہشت گر دی کے خلاف جنگ کے تعلق سے اپنی کارروائی عراق اور شام کی حکومتوں سے ہم آہنگی کے بعد انجام دے گی تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا راستہ ہموار ہو سکے ۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عراقی اور شامی حکومتوں کی اجازت اور ہم آہنگی کے بغیر ان ملکوں کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے کوئی بھی اقدام غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور علاقے کے بحران میں دخیل سبھی قوتوں سے یہی توقع ہے کہ وہ عراق میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تعلق سے کوئی بھی اقدام انجام دینے سے پہلے عراق کی مرکزی حکومت سے ہم آہنگی کریں گی۔

انہوں نے ایران کا سفر کرنے والے دوسرے ملکوں کے شہریوں کے لئے امریکا کے سفر کے لئے سخت قانون بنانےکے کانگرس کے اقدام کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے نام امریکی وزیر خارجہ کے خط کے بارے میں کہاکہ امریکی کانگرس میں جو قانون پاس کیا گیا ہے وہ صیہونی لابی اور ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی مخالف قوتوں کے دباؤ میں پاس کیا گیا اور یہ قانون امریکا کے سالانہ بجٹ کے متن کی ایک شق میں شامل کیا گیا جس پر امریکی صدر نے بھی دستخط کر دئے ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے جمہوریہ آذربائجان کے تجارتی وفد کے دورہ تہران کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ جمہوریہ آذربائجان ایران کا ہمسایہ ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بعض مواقع پر نشیب و فراز آتے رہے ہیں لیکن یہ تعلقات روز بروز بہتر ہو رہے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام میں دہشت گرد گروہوں اور شامی حکومت کے مخالف گروہوں کے درمیان فرق کئے جانے کی ضرورت کے بارے میں بھی کہا کہ سلامتی کونسل کے ذریعے پاس کی گئی تازہ ترین قرارداد میں جو میکانزم تیار کیا گیا ہے اور اسی طرح شام سے متعلق ویانا ایک اور ویانا دو کانفرنس میں بھی جو سب سے اہم ایجنڈا تھا وہ شامی حکومت کے مخالفین اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان فرق کا قائل ہونا تھا-

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گرد گروہوں اور شامی حکومت کے ان سیاسی مخالفین کے درمیان فرق کو واضح کیا جائے جو پرامن طریقے سے شام کے بحران کا حل چاہتے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24