Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89793
Published : 22/12/2015 12:44

روسی صدر کا ایٹمی ہتھیاروں کو ترقی دینے کا اعلان، مغرب کا شدید ردعمل

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کو بدستور ترقی دیتا رہے گا ،تاہم ان کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے دستاویزی پروگرام، ورلڈ آرڈر میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ایک ایٹمی ملک کی حثیت سے روس، دفاعی ہتھیاروں کے طور پر ایٹمی ہتھیاروں کو مسلسل ترقی دیتا رہے گا۔

انہوں نے کہاکہ روس کا ایٹمی ٹرائیکا یعنی بیلسٹک ایٹمی میزائل، زمین سے زمین پر مار کرنے والے بین براعظمی میزائل، ایٹمی میزائیلوں سے لیس اسٹریٹیجک بمبار طیارے اور بین براعظمی ایٹمی میزائیلوں سے لیس آبدوزین ،ہماری ایٹمی سیکورٹی پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔

روسی صدر نے جون دو ہزار پندرہ میں یوکرین کے معاملے پر مغرب روس کشیدگی میں اضافے بعد کھل کر اعلان کیا تھا کہ اس سال کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر میں چالیس بین براعظمی ایٹمی میزائیلوں کا اضافہ کیا جائے گا جو انتہائی ترقی یافتہ اینٹی میزائل سسٹم سے عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر پوتن نے اس بات کا اعلان روس کی فوجی طاقت کے احیا کے نام سے، مغربی ماسکو میں اسلحہ کی نمائش کے موقع پر کیا تھا۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئے گو نے بھی اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ سابق سویت یونین کے دور کے باقی ماندہ فرسودہ ہتھیاروں کی جدید کاری کے منصوبے کے تحت سن دو ہزار چودہ کے دوران سینتیس جدید ترین بین براعظمی میزائل روسی فوج کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔

بعد ازاں ستمبر دو ہزار چودہ میں روسی صدر نے اپنی حکومت کے دفاعی ترقیاتی منصوبے کے تحت فوج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے اور سن دو ہزار بیس تک ایٹمی آبدوزوں کے بیڑے کو ترقی دینے پر زور دیا تھا۔

روسی صدر نے بوری کلاس کی چوتھی آبدوز کو سمندر میں اتار ے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس دو ہزار بیس تک ایسی چار آبدوزیں ہونا چاہییں۔ جن میں دو آبدوزیں اس وقت کمشنگ کے مرحلے میں ہیں۔

روس کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی ترقی اور اضافے کے معاملے پر مغربی ملکوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹنبرگ نے جون دو ہزار پندرہ میں روس کے اس اقدام کو غیر منطقی اور خطرناک قرار دیتے ہوئے ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا الزام لگایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اس صورتحال کا مقابلہ کرے گا اور ہم بھی اپنی دفاعی توانائیوں میں اضافہ بھی اسی وجہ سے کر رہے ہیں۔

نیٹو کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی روس کے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافے کے پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ روس کا یہ اقدام باہمی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے کیونکہ امریکہ اور روس دونوں ملکوں نے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے اسٹارٹ ٹو پر دستخط کیے ہیں۔

مغربی تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ فوجوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے روسی پروگرام پر کئی سو ہزار ارب ڈالر کے اخراجات ہوں گے، تاہم عالمی معیشت میں گراوٹ کے پیش نظر روسی معیشت کو بھاری بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

روس کے نائب وزیر دفاع دی متری ریگوزین نے سن دوہزار تیرہ میں اعلان کیا تھا کہ سن دو ہزار بیس تک مسلح افواج کی جدید کاری کے منصوبے پر مجموعی طور پر چھے سو نوے ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17