Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89859
Published : 22/12/2015 19:46

نائیجیریا: شیعہ مسلمانوں کی وحشیانہ سرکوبی کا سلسلہ جاری

نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کی وحشیانہ سرکوبی کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام اور حسینیہ بقیۃ اللہ کے انہدام کے بعد اب اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ شیخ زکزکی پر مقدمہ چلانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آیت اللہ شیخ زکزکی کو فوج نے ان کے گھر پر حملے کے دوران زخمی کرنے کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔

نائیجیریا کے صوبہ کادونا کے گورنر ناصر الرؤفی نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ شیخ زکزکی پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نائیجیریا کی فیڈرل حکومت اسلامی تحریک کے سربراہ پر مقدمہ چلانا چاہتی ہے اور اس بارے میں فیصلہ بھی فیڈرل حکام ہی کریں گے۔

یاد رہے کہ نائیجیریا کی فوج نے صیہونی حکومت اور آل سعود کے اشاروں پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ بارہ دسمبر کی رات شہر زاریا کے حسینیہ بقیۃ اللہ پر حملہ کر کے سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کردیا اور اس کے دوسرے دن تیرہ دسمبر کو اسلامی تحریک کے بانی اور رہنما آیت اللہ شیخ زکزکی کے گھر پر حملہ کرکے اندھا دھند فائرنگ میں ان کے خاندان کے متعدد افراد اور بڑی تعداد میں ان کے حامیوں کو شہید کردیا ۔ نائیجیرین فوج نے اس وحشیانہ حملے میں آیت اللہ شیخ زکزکی کو بھی زخمی کردیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے کادونا منتقل کردیا گیا۔ نائیجیریا کے فوجیوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سیکڑوں شہدا کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیا اور پیر کے دن حسینیہ بقیۃ اللہ کو بھی شہید کردیا۔

نائیجیریا کےصوبہ کادونا کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ زکزکی کے گھر پر حملے کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

دوسری طرف اسلامی تحریک نے ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ صوبائی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کمیٹی کے اراکین اس وحشیانہ قتل عام کے بارے میں نائیجیریا کے مسلمانوں کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور وہ صرف فوجی حکام کے دعووں پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آیت اللہ شیخ زکزکی پر مقدمہ چلانے کی تیاری ایسی حالت میں کی جا رہی ہے کہ نائیجیریا میں مسلمانوں کے خلاف جو گھٹن کی فضا قائم کی گئی ہے ، وہ اس پر کئی بار اعتراض کرچکے ہیں ۔

نائیجیریا کی فوج نے ایسی حالت میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور ان کی وحشیانہ سرکوبی کررہی ہے کہ ملک میں تکفیری دہشت گرد گروہ بوکو حرام کے حملوں میں بے رحمی کے ساتھ عوام کے مارے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ نائیجیریا کی فوج افریقی ملکوں میں سب سے مضبوط اور اچھی تربیت یافتہ فوج کہی جاتی ہے۔ اس کے پاس جدید ترین ضروری اسلحے بھی موجود ہیں ۔ اس کے باوجود اس نے اب تک بوکو حرام کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی ہے۔

دو سو سے زائد اسکولی بچیوں کا اغوا اور پھر انہیں فروخت کرنا ، تکفیری دہشت گرد گروہ بوکوحرام کے بے شمار وحشیانہ اور انسانیت سوز جرائم کا صرف ایک نمونہ ہے ۔ لیکن نائیجیریا کی فوج اس تکفیری دہشت گرد گروہ کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرنے کے بجائے شیعہ مسلمانوں اور اسلامی تحریک کی سرکوبی میں مصروف ہے جبکہ نائیجیریا کے شیعہ مسلمان اور اسلامی تحریک کا شمار انتہا پسندی اور تکفیری دہشت گردی کے سخت ترین مخالفین میں ہوتا ہے۔ نائیجیریا کے عوام کو حقیقی اسلام سے ، کہ جو امن و آشتی کا درس دیتا اور انتہا پسندی کا مخالف ہے، روشناس کرانا ، لوگوں میں حقیقی اسلامی بیداری پیدا کرنا اسلامی تحریک کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔

بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ بوکوحرام کو صیہونی حکومت اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے کیونکہ یہ گروہ اسلام کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے اسلامو فوبیا پھیلانے اور لوگوں کو اسلام سے دور کرنے کی سازش پر عمل کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام اور اسلامی تحریک کی سرکوبی ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کی جا رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افریقی ملکوں میں اسلام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے صیہونی اور وہابی حلقوں کو وحشت زدہ کردیا ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر کام کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام آیت اللہ شیخ زکزکی کی گرفتاری اور اسلامی تحریک کی سرکوبی کا اسی تناظرمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11