دوشنبه - 2019 مارس 25
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 89930
تاریخ انتشار : 23/12/2015 13:2
تعداد بازدید : 3

داعش سے تیل نہ خریدنے پر مبنی ترک صدر کا دعوی

ترکی کے صدر نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ ترکی نے داعش سے تیل خریدا ہے تو وہ اپنے عہدے سے استعفا دے دیں گے۔

اس سے پہلے یکم دسمبر کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اعلان کیا تھا کہ اگریہ ثابت ہوجائے کہ ترکی نے داعش سے تیل خریدا ہے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑدیں گے-

ترکی کے صدر نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے اگر ترکی دہشت گردوں سے تیل خریدے گا تو وہ اپنے اسلاف اور آئندہ نسلوں کے سامنے شرمسار ہوگا -

واضح رہے کہ روس نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ترکی شام اور عراق میں داعش کے ذریعے غیر قانونی طور پرتیل کا اہم خریدار ملک ہے -

ماسکو نے ترک صدر رجب طیب اردوغان اور ان کے اہل خانہ پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ تیل کی تجارت میں براہ راست شریک ہیں -

کچھ عرصہ قبل روس کی وزارت دفاع نے سیٹیلائٹ کے ذریعے لی گئی کچھ تصویریں عام کی تھیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ داعش ترکی کے سترہ سو بائیس آئل ٹینکروں میں دو لاکھ بیرل تیل بھر رہے ہیں -


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :