دوشنبه - 2019 مارس 25
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 89939
تاریخ انتشار : 23/12/2015 14:41
تعداد بازدید : 4

دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک محکم اصول میں تبدیل ہونی چاہئے: شام کے صدر بشار اسد

شام کے صدر بشار اسد نےکہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک محکم اصول میں تبدیل ہونی چاہئے۔

بشار اسد نے آ‎سٹریا کے ایک اخبار سے اپنے انٹرویو میں کہا کہ شام میں مغربی ملکوں کی فوجی کارروائیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے دہشت گرد ی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ ایک محکم اصول کے طور پردیکھی جانی چاہئے -

شام کے صدر نے کہا کہ دہشت گردی کےسلسلے میں مغرب کی پالیسی حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور اس کی کارروائیاں بھی کارساز نہیں ہیں -

انہوں نے کہا کہ ہم ایک آزاد و خودمختار ملک ہیں -

ان کا کہنا تھا کہ اگر شام کا صدر اپنے عوام کے لئے اچھا یا برا صدر ہے تو اس کا تعلق خود شام کے عوام سے ہے نہ کہ یورپی ملکوں سے -

صدر بشار اسد نے کہا کہ یہ شامی عوام کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون اقتدار میں رہے اور کون نہ رہے - انہوں نےکہا کہ اگر شام کے عوام مجھے اس سے زیادہ عہدہ صدارت پر نہیں دیکھنا چاہتے تو میں حکومت سے کنارہ کش ہوجاؤں گا-

بشاراسد نے اس سوال کے جواب میں کہ کیوں یورپ کے سیکڑوں افراد وہاں سے آکرشام میں نام نہاد جہاد میں شریک ہورہے ہیں کہا کہ ان کے ملک میں جو بدامنی پیدا کی گئی ہے وہ دہشت گردی کے لئے بہترین جگہ میں تبدیل ہوگئی ہے اور دنیا کے گوشہ وکنار سے انتہاپسند عناصر یہاں آکر دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں -

شام کے صدر بشاراسد نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یورپی ملکوں کوپہلے اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ کیوں یورپی نوجوان انتہا پسندی کی جانب مائل ہورہے ہیں اور اس کے بعد وہ انتہا پسندی کوروکنےکی فکرکریں -


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :