سه شنبه - 2019 مارس 19
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 89949
تاریخ انتشار : 23/12/2015 18:44
تعداد بازدید : 9

اقوام متحدہ نے عرب اتحاد کو یمن میں عام شہریوں کے مارے جانے کا ذمہ دار قرار دے دیا

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے منگل کے روز سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی سرکردگی میں بننے والا اتحاد یمن کے شہری علاقوں پر بہت زیادہ حملے کر رہا ہے۔

نیویارک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر شہزادہ زید بن رعد الحسین نے یمن کے بارے میں سلامتی کونسل کے پہلے کھلے اجلاس میں کہا کہ نو ماہ قبل یمن پر فوجی حملے کے آغاز سے ہم، زیادہ آبادی والے علاقوں میں اسکولوں اور اسپتالوں کی مانند یمن کی بنیادی تنصیبات پر بمباری کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ہمیں اس پر تشویش ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں کہ جن میں سے نصف عام شہری تھے۔ شہزادہ زید نے مزید کہا کہ اس جارحیت میں چھے سو سے زائد بچے جاں بحق جبکہ تقریبا نو سو زخمی ہوئے ہیں اور یہ تعداد دو ہزار چودہ کی نسبت پانچ گنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے سلامتی کونسل میں کہا کہ یمن جیسا ایک کمزور ملک یقینا تکفیری صیہونی گروہ داعش کی مانند انتہا پسند گروہوں کے لیے ایک پرامن ٹھکانہ ہو گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی سرکردگی میں عرب اتحاد نے چھبیس مارچ سے یمن پر جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد یمن کے مفرور سابق صدر عبد ربہ منصور ہادی کو دوبارہ برسر اقتدار لانا ہے۔


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :