Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89953
Published : 23/12/2015 18:57

ترک فوجی عراق میں موجود رہیں گے: احمد داؤد اوغلو

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ترک فوجی عراق میں موجود رہیں گے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احمد داؤد اوغلو نے منگل کے روز اعلان کیا کہ موصل کی آزادی تک عراقیوں کو تربیت دینے اور انھیں مسلح کرنے کے لیے ترک فوج کا پروگرام جاری رہے گا۔ انھوں نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس میں کہا کہ ترکی داعش کے خلاف اتحاد کا حصہ ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شرکت کرتا رہے گا۔

ترکی نے چار دسمبر کو داعش کے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عراقی کردوں کی پیشمرگہ فورس کو تربیت دینے کے دعوے سے اپنے تین سو فوجیوں کو موصل شہر کے قریب بعشیقہ کے علاقے میں تعینات کر دیا۔ ان فوجیوں کے ساتھ اس نے بیس سے پچیس ٹینک بھی اس علاقے میں بھیجے ہیں۔ ترک حکام نے اس اقدام کا مقصد ترک فوجی انسٹرکٹرز کی حفاظت کرنا بتایا ہے۔

ترکی نے اپنے فوجیوں کو عراق کی مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر موصل کے قریب تعینات کیا ہے جبکہ بغداد حکومت نے ترک فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ عراق نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ترک فوجی عراق سے باہر نہ گئے تو وہ اقوام متحدہ میں شکایت کر دے گا۔ عراق میں ترک فوجیوں کے بغیر اجازت داخلے پر عراقی عوام نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22