Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 89992
Published : 25/12/2015 18:37

امریکی حکومت کی جانب سے ایران مخالف اقدامات جاری

امریکی کانگرس کے نمائندوں نے ایران کے سینٹرل بینک کے اکاؤنٹ سے ایک ارب ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی رقم نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی قانون سازوں نے بدھ کے روز ایک بل پر دستخط کر کے امریکہ کی فیڈرل کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے سینٹرل بینک کے منجمد اثاثوں میں سے ایک ارب ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی رقم نکالنے کا حکم دے۔

یہ امریکی قانون ساز ایرانی سینٹرل بینک کے اکاؤنٹ سے مذکورہ رقم نکالنے کے لیے اقدامات اس لیے کر رہے ہیں کہ بقول ان کے یہ رقم ان لوگوں کو تاوان کے طور پر ادا کی جائے جو ایران کی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔

امریکہ کے ایوان نمائندگان میں قانونی مشاورت کے گروپ نے کہ جس میں اس ایوان کے اسپیکر اور اکثریتی اور اقلیتی پارٹی کے رہنما شامل ہیں، گزشتہ روز ایک بل پیش کیا ہے جس پر کانگرس کے دو سو چھبیس ارکان نے کہ جن کا تعلق ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں سے ہے، دستخط کیے ہیں۔

ان نمائندوں نے اس بل پر دستخط کر کے امریکہ کی فیڈرل کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے سینٹرل بینک کی ایک ارب ڈالر ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی رقم واپس لینے کی درخواست مسترد کر دے اور یہ رقم انیس سو تراسی کے بیروت بم دھماکوں اور انیس سو چھیانوے میں سعودی عرب کے الخبر بم دھماکوں میں مرنے والوں کے اہل خانہ کو تاوان کے طور پر ادا کرنے کا حکم دے۔

ایران نے کئی بار انیس سو تراسی میں بیروت میں امریکی بحریہ کے اڈے میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ان بم دھماکوں میں دو سو اکتالیس امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

سعودی عرب میں الخبر بم دھماکوں میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام بھی ایک ایسے وقت میں لگایا جا رہا ہے کہ جب صدر بل کلنٹن کے دور میں امریکی وزیر دفاع ولیم پیری نے دو ہزار سات میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بم دھماکے القاعدہ کا کام تھا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21