پنج شنبه - 2019 مارس 21
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 90057
تاریخ انتشار : 26/12/2015 13:9
تعداد بازدید : 4

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں مثبت تبدیلیوں کی گنجائش موجود ہے

اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ تہران اور ریاض کے تعلقات میں مثبت تبدیلیوں کا انحصار سعودی حکام پر ہے-

وزارت خارجہ کے ترجمان صادق حسین جابری انصاری نے جمعے کو ارنا کے مدیروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئےکہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنا ہے - ان کا کہنا تھا کہ اگرسعودی عرب کے حکام میں ضروری عزم و ارادہ موجود ہو تو ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں مثبت تبدیلیوں کی گنجائش موجود ہے -

ترجمان وزارت خارجہ نے علاقے اور ایران و سعودی عرب کے تعلقات کی خاص صورتحال کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ اور علاقائی سطح پر مختلف مسائل اور تقاضے ہیں جودونوں ملکوں کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتے ہیں - انہوں نے سانحہ منی کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس سانحے کے بارے میں ایران کا موقف یہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت حج کی میزبان اور اس کا انتظام چلانے کی ذمہ دار کی حیثیت سے اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرے -

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران دوطرفہ ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح کی اپنی توانائیوں سے استفادہ کرکے سانحہ منی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے عمل کو اپنے اہم ترین ایجنڈے میں شامل کئے ہوئے ہے - انہوں نے دہشت گردی کو مشترکہ عالمی خطرہ قراردیا اور کہاکہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر سمیرقنطار کا قتل غاصب صیہونی حکومت کی منظم ریاستی دہشت گردی کا مصداق ہے -

انہوں نے ریاستی دہشت گردی کو دنیا میں ایک انتہائی خطرناک دہشت گردی قراردیا اور کہاکہ صیہونی حکومت کی بنیاد ہی غاصبانہ قبضے اور قتل و غارتگری پر رکھی گئی ہے اور قتل و دہشت گردی صیہونی حکومت کی ذات میں شامل ہے -

وزارت خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ صیہونی حکومت کی ریاستی دہشت گردی پر توجہ دے جو مغربی ایشیا اور دنیا میں بحرانوں کی جڑ ہے - انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ امریکی حکومت ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونےوالے سمجھوتے کے مطابق جس کی سلامتی کونسل نے بھی تائید کی ہے اس معاہدے پرعمل درآمد کی پابند ہے- انہوں نے کہا کہ اگرامریکا نے اپنے وعدوں پرعمل نہ کیا تو ایران کےاعلی حکام اور ادارے اس سلسلے میں ضروری فیصلے کریں گے اور وزارت خارجہ بھی ان فیصلوں پرعمل کرے گی –


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :