يکشنبه - 2019 مارس 24
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 90059
تاریخ انتشار : 26/12/2015 13:13
تعداد بازدید : 4

نیٹو کی فوجی سرگرمیاں کئی ملکوں کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں

روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ نیکولائی پتروشف نے کہا ہے کہ نیٹوکی فوجی سرگرمیاں روس اور دیگرملکوں کی سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہیں -

روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دفاعی معاہدے کے قالب میں نیٹو کی تشکیل کا نظریہ اس تنظیم کی جارحانہ ماہیت پر پردہ ڈالنے کے لئے ہے -اور اسی وجہ سے اس وقت امن عالم کو شدیدخطرہ لاحق ہے-

اس اعلی روسی عہدیدار کے مطابق جارحانہ توانائیوں اور صلاحیتوں میں اضافے اور ہتھیاروں کی جدید کاری نیز روس کی سرحدوں کے قریب جدیدترین میزائیلی سسٹم کو نصب کرنے کے تعلق سے نیٹو کے اقدامات عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں -

انہوں نے کہاکہ نیٹو میں شامل بعض مغربی ملکوں کے حکام جو یہ کہتے ہیں کہ یہ اتحاد پوری طرح دفاعی نوعیت کا ہے وہ صرف اس لئے کہتے ہیں تاکہ نیٹو کی جارحانہ ماہیت کی پردہ پوشی کرسکیں -

روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر سرگئی ناریشکن نے بھی اس سے پہلے کہا تھا کہ نیٹو پورے یورپ کے لئے ایک کینسرکی مانند ہے -

روسی صدرکے ترجمان دیمتری پسکوف نے بھی اکتوبر کے آخر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ روس کی سرحدوں کی جانب نیٹو کی پیشقدمی کا خطرناک نتیجہ برآمد ہوسکتاہے ان کا کہنا تھاکہ روس نے اپنی مغربی سرحدوں پر نیٹو کی افواج کی تعیناتی میں اضافےکے خطرات کی بابت ہمیشہ خبردار کیا ہے-

روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا تھا کہ نیٹو کا دائرہ روسی سرحدوں کی جانب پھیلنے کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے اور ہم اس سے پہلے بھی اس کے طویل المیعاد خطرات کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں -

واضح رہے کہ روس نے بارہا نیٹوسے کہا ہے کہ وہ اپنا دائرہ مشرقی یورپ تک پھیلانے کے اپنے منصوبے سے باز رہے لیکن نیٹو نے ماسکوکے مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے گذشتہ دوبرسوں میں روس کے خلاف اپنے مخاصمانہ اقدامات میں اضافہ ہی کیا ہے -

روسی حکام کے نقطہ نگاہ سے نیٹو کے متعدد اقدامات منجملہ روس کی سرحدوں کے قریب نیٹو کے چھے مراکزکو آپریشنل بنایا جانا ، ریپڈ ایکشن فورس کی روسی سرحدوں کے قریب تعیناتی ، مشرقی یورپ میں امریکا کے بھاری ہتھیاروں کی تعیناتی اور پولینڈ، لیتھوانیا اور اسٹونیا جیسے ملکوں می‍ں امریکا کے چارہزار فوجیوں کی تعیناتی صرف روس کا مقابلہ کرنے کے لئے انجام پائی ہے -

البتہ روس کا مقابلہ صرف مشرقی یورپ تک ہی محدود نہیں ہے -

پچھلے برسوں میں نیٹو نے بالقان کے ملکوں کو بھی اپنے میں شامل کرنے کا اقد ام کیا ہےچنانچہ کروشیا اور البانیا کی نیٹو میں شمولیت کے بعد اب مونٹے نگرو بھی نیٹو میں شامل ہونے جارہا ہے - اس کےعلاوہ نیٹو کی تنظیم یوکرین کے ساتھ بھی گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے -


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :