Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 90271
Published : 29/12/2015 17:55

شام کی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد

شام میں دہشت گردوں کے محاصرے میں موجود عام شہریوں کو باہر نکالنے کے لئے شام کی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے کے دوسرے مرحلے میں تکفیری دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقوں سے عام شہریوں کو نکلنے کی اجازت دینے کے بدلے میں شامی افواج کے محاصرے میں پھنسے ہوئے ایک سو ستاسی دہشت گردوں کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں بیروت اور وہاں سے ترکی جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

شام کی حکومت اور تکفیری دہشت گردوں نے چوبیس ستمبر کو اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ چھے مہینے کی جنگ بندی کے قیام کے ذریعے صوبہ ادلب کے علاقوں کفریا اور الفوعہ میں محاصرے میں موجود عام شہریوں کو باہر نکالنے کے بدلے میں دمشق کے مضافاتی علاقے الزبدانی سے دہشت گرد بھی نکل جائیں گے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق کفریا الفوعہ - الزبدانی کے نام سے ہونے والے سمجھوتے کا دوسرا مرحلہ پیر کی رات کو بیروت کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر ترکی سے عام شہریوں اور اور شام سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آنے والے دہشت گردوں کے قافلوں کے پہنچنے اور اقوام متحدہ اور لبنان کی نیشنل سیکورٹی کے ادارے کی زیر نگرانی تبادلے کے مراحل انجام پانے کے ساتھ ہی مکمل ہو گیا ۔

اس رپورٹ کے مطابق پیر کو احرار الشام سے موسوم تکفیری دہشت گردوں کا ایک قافلہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریڈکراس کمیٹی کی ایمبولنسوں اور بسوں کے ذریعے شہر زبدانی سے نکل کر زمینی سرحد سے لبنان میں داخل ہوا ۔ اس قافلے میں احرار الشام کے ایک سو ستاسی دہشت گرد موجود تھے جن میں سے چونسٹھ دہشت گرد زخمی تھے-

اس قافلے میں شامل دہشت گردوں کو اقوام متحدہ اور لبنان کی نیشنل سیکورٹی کے ادارے کی زیر نگرانی بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہوائی جہاز کے ذریعے ترکی منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح شام کے صوبہ ادلب کے علاقوں کفریا اور الفوعہ سے 338 عام شہری جو تکفیری دہشت گردوں کے محاصرے میں تھے، ترکی اور شام کی سرحدوں پر واقع باب الھوی گذرگاہ کے ذریعے ترکی پہنچے اور پھر وہاں سے ترکی کے شہر اسکندرون کے ہاتای ایئرپورٹ سے ترکی کے دو طیاروں کے ذریعے بیروت ایئر پورٹ پہنچا دیئے گئے۔ ان دو نوں طیاروں کے بیروت ایئرپورٹ پر اترتے ہی اس میں سوار مسافرین کو سخت سیکورٹی میں ریڈکراس کمیٹی کی بسوں اور ایمبولنسوں میں منتقل کر دیا گیا اور پھر زمینی راستے سے انہیں شام لے جایا گیا جہاں وہ پرامن علاقوں میں رہائش پذیر ہوں گے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16