Thursday - 2018 Oct. 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 90397
Published : 1/1/2016 12:38

دہشت گردوں کے سرغنہ کی ہلاکت پر امریکہ کو تشویش اور افسوس

امریکا نے جیش اسلامی نامی تکفیری دہشت گرد گروہ کے سرغنہ زہران علوش کی ہلاکت پر افسوس اور تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکا کا دعوی ہے کہ علوش کی ہلاکت سے بحران شام کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کو نقصان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ جیش الاسلامی نامی تکفیری دہشت گرد گروہ کا سرغنہ زہران علوش چھے دن قبل روس اور شام کی ایک مشترکہ کارروائی میں اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہو گیا تھا۔

عراق اور شام میں دہشتگرد گروہوں کے سرغنوں کا شکار شروع ہو گیا ہے۔ اب تک ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس کی وجہ سے ان گروہوں کے حامی بے انتہا پریشان ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے تکفیری دہشت گرد گروہ جیش الاسلام کے سرغنہ زہران علوش کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ترک صدر اردوغان اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی ملاقات کے بعد، سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے دعوی کیا ہے کہ زہران علوش اور اس جیسے دیگر افراد کی ہلاکت سے، شام میں قیام امن کا راستہ ہموار نہیں ہو سکتا۔

زہران علوش کی ہلاکت کے بعد، فری سیریئن آرمی سے وابستہ جند الرحمن نامی دہشت گرد گروہ کا سرغنہ یوسف عمار بھی ہلاک کر دیا گیا۔ اسی طرح شام کے الشیخ المسکین شہر میں جبہۃ النصرہ دہشت گردگروہ کا سرغنہ ابومحمّد حافظ بھی مار دیا گیا۔ دوسری جانب شام کے مرئت النعمان نامی علاقے میں جبہۃ النصرہ کے دسیوں سرغنوں کو ہلاک کر دیا گیا جن میں ابوالبراء اور ابوالمثنّی المدنی نامی دہشت گرد کمانڈر شامل تھے۔

دوسری جانب عراقی افواج نے الرمادی میں داعش کے نام نہاد وزیر خزانہ کو گرفتار کر لیا جو اس شہر کے باشندوں کے درمیان چھپا ہوا تھا۔

عراقی افواج نے اس ملک کے مغربی ترین علاقوں میں بھی دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں داعش کا نام نہاد والی فرات، ابوالانس السامرائی، داعش کی فوجی کمیٹی کا کمانڈر ابو احمد الوانی اور اس تکفیری دہشت گر گروہ کے اشاعتی مرکز کے انچارج الشامی سمیت بیس دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے۔ بغداد کے مضافات میں مسلح افواج کی کارروائی کے دوران دیالہ اور بغداد کے لئے داعش کے نامزد نام نہاد والیوں سمیت اس گروہ کے چالیس سرغنوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔

باقی دہشت گرد عناصر نے ترجیح دی کہ سرغنوں کی ہلاکت کے بعد، فرار کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ ان کے سامنے یا تو شامی اور عراقی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کا راستہ تھا یا پھر ہلاکت ان کا انتظار کر رہی تھی۔

شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی اور عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے بھی زور دیکر کہا ہے کہ سن دو ہزار سولہ دہشت گردوں کی نابودی اور مقبوضہ علاقوں کی آزادی کا سال ہو گا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Oct. 18