يکشنبه - 2019 مارس 24
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 90708
تاریخ انتشار : 5/1/2016 13:18
تعداد بازدید : 5

ایران تمام بین الاقوامی کنوینشنوں پر کاربند ہے، دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران نے سفارتی مراکز کے بارے میں تمام بین الاقوامی کنوینشنوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنے فرائض پر عمل کیا ہے جبکہ سعودی عرب کی حکومت، کشیدگی جاری رکھ کر خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے پیر کے دن اپنی ہفتے وار پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سعودی حکومت نے علاقے میں کشیدگی و جنگ اور یمن کو خونریز جارحیت کا نشانہ بنا کر نیز علاقے کے مختلف ملکوں میں امن و سلامتی کو متاثر کرکے پورے علاقے کو بحران سے دوچار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعودی حکومت، نہ صرف اپنے مفادات بلکہ خود کو بھی بحران و کشیدگی جاری رکھنے میں ہی محفوظ سمجھتی ہے اور وہ اپنے ملک کے اندرونی مسائل کو بیرون ملک غیر منطقی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حسین جابری انصاری نے کہا کہ سعودی عرب میں آزادی و اصلاحات کے زور پکڑتے ہوئے مطالبات کے مقابلے میں سخت ترین ردعمل، منجملہ حکومت مخالفین کی سرکوبی خاص طور سے معروف عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو شہید کئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی حکومت، خود کو مختلف قسم کے اندرونی و بیرونی مسائل و بحران سے دوچار پا رہی ہے جس سے چھٹکارہ پانے کے لئے وہ پورے علاقے میں کشیدگی کا دائرہ پھیلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سفارتی مراکز سے متعلق کوئی بھی اتفاق، دنیا کا کوئی پہلا اتفاق نہیں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ میزبان حکومت، اپنے قانونی فرائض پر عمل کرے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حوالے سے عوامی احساسات کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنے تمام قانونی فرائض پر عمل کیا ہے اور وہ بین الاقوامی کنوینشنوں کی بنیاد پر تمام سفارتی مراکز اور سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے معاہدے پر کاربند ہے۔ حسین جابری انصاری نے تاکید کے ساتھ کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس مسئلے کو کشیدگی اور بحران کو مکمل طور پر ہوا دینے کا ایک بہانہ بنایا ہے۔


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :