Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 90770
Published : 6/1/2016 9:7

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو کی ایران کے اعلی حکام سے ملاقات مختلف مسائل پر تبادلہ خیال

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ جو ایران کے تین روزہ دورے پر ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام سے باہمی دلچسپی کے مسائل اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں -

عبداللہ عبداللہ کے ہمراہ افغانستان کا ایک اعلی سطحی وفد بھی تہران آیا ہے جس میں افغانستان کے وزرائے تجارت ، صنعت ، محنت و سماجی بہبود ، مہاجرین، ٹرانسپورٹ اور شہری ہوابازی بھی شامل ہیں - تہران پہنچنےکے بعد انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سینئر نائب صدر اسحاق جہانگیری سے ملاقات کی ۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو نے اس ملاقات میں کہاکہ ایران اور افغانستان کے تعلقات علاقے کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتے ہیں - انہوں نے کہا کہ گذشتہ ادوار سے ہی ایران اور افغانستان کے تعلقات بہت ہی وسیع اور اسٹریٹیجک نوعیت کے تھے - ایران کے سینئر نائب صدر اسحاق جہانگیری نے بھی افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو سے ملاقات کے بعد کہاکہ افغانستان کی سلامتی و استحکام، اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے اور اس راہ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی اہم کردار ادا کرے گی-

انہوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے درمیان اقتصادی لین دین کا حجم سالانہ دواعشاریہ پانچ ارب ڈالر ہے جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ایران اور افغانستان کے تعلقات اعلی سطح پر ہیں - اسلامی جمہوریہ ایران کے سینئر نائب صدر نے ایران اور افغانستان کے درمیان پائے جانے والے بے شمار اشتراکات اورعلاقائی سطح پر دونوں ملکوں کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے اعلی سطحی وفد اور ایران کے اعلی حکام کے درمیان مفید مذاکرات اور نشستیں ہوئی ہیں - انہوں نے کہا کہ سیاسی اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں تعاون، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مشترکہ خطرے کا مقابلہ اور انسداد منشیات کے سلسلے میں باہمی کوشش جیسے معاملات ان مذاکرات میں زیربحث آئے -

انہوں نے ترقیاتی منصوبوں اور ایران و افغانستان کے مابین اقتصادی تعاون کی توسیع کے لئے خصوصی سہولتوں کی فراہمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار ایک مناسب موقع ہے جس پر ایران اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینےکے لئے خاص توجہ دے رہا ہے -

واضح رہے کہ افغانستان کے چیف ایکزیکٹیو عبداللہ عبداللہ ایران اور افغانستان کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے تحت ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار کا بھی دورہ کریں گے - یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ چابہار بندرگاہ کو ایک بین الاقوامی ٹرانزیٹ بندرگاہ میں تبدیل کرنا ایران ہندوستان اور افغانستان کا مشترکہ پروجیکٹ ہے - ایران، ہندوستان اور افغانستان نے سن دوہزار تین میں چابہار بندرگاہ کی توسیع کے منصوبے سے متعلق ایک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے - افغانستان اس بندرگاہ سے استفادہ کر کے پاکستان سے اپنی اقتصادی وابستگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا -

ادھر ہندوستان نے چابہار بندرگاہ کے توسیعی منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام شروع کر دیا ہے - اور افغان تاجروں کو اپنی اشیا اور مصنوعات کی ٹرانزیٹ کے لئے ضرورت کے مطابق زمینیں بھی الاٹ کردی گئی ہیں -

افغانستان میں جنگ وخونریزی اگرچہ اس ملک کی اقتصادی ترقی میں کسی حدتک مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے افغانستان کے ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے اس ملک میں قیام امن میں مدد دینے کے لئے ہمیشہ اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے اور افغانستان کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا ایک حصہ سمجھتا ہے -

چنانچہ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں توسیع کو ناگزیر بنا دیا ہے - عبداللہ عبداللہ پچھلے ایک سال میں ایران کا دورہ کرنے والے افغانستان کے دوسرے اعلی ترین عہدیدار ہیں اس سے پہلے گذشتہ برس موسم بہار میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی ایران کا دورہ کیا تھا -


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21