Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 90829
Published : 6/1/2016 13:20

بی بی سی کی رپورٹ میں حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنے کوشش کی گئی ہے

ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں عیسائی برداری کے نمائندے اور کلدانی و عاشوری کلیسا کی عالمی کونسل کے سربراہ یوناتھن بت کلیا نے بی بی سی فارسی سروس سے نشر ہونے والی تجزیاتی رپورٹ کو حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنے کوشش قرار دیا ہے۔

یوناتھن بت کلیا نے اپنے ایک تحریری بیان میں بی بی سی کے سامراجی کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجلس شوارئے اسلامی میں ان کی تقریر کو توڑ مڑور کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں لکھا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب بی بی سی نے عاشوری عیسائیوں کے حوالے سے پیش آنے والے معاملات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یوناتھن بت کلیا نے لکھا ہے کہ بی بی سی نے اپنے سامراجی مفادات کے تحت مجلس شورائے اسلامی میں ان کی تقریر کے بعض حصوں کو ان کے سیاق و سباق کے بغیر نشر کیا ہے جو صحافتی اصولوں اور اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے گھر یعنی ایران میں اپنے بھائیوں سے بعض گلے شکوے کیے تھے جن کے حل کے لیے وقت درکار ہے اور حکومت ایران اس پر پوری ہمددری کے ساتھ غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے دیت کے مسلئے پر بھی بات کی تھی اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے تاریخی فتوے کے ذریعے ایران کی عیسائی برادری کی مشکل کو حل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے مقدس اسلامی نظام میں اظہار رائے کی پوری آزادی ہے اور ہم اپنی بات اپنے بھائیوں کے سامنے کھل کر بیان کرسکتے ہیں۔

انہوں نے دہشت گردوں کو برطانیہ اور امریکہ کا آلہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی بی سی نے عراق اور شام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں عاشوری اور کلدانی کلیساؤں کی تباہی و بربادی کے حوالے سے اپنی صحافتی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ کا ماضی عاشوری اور کلدانی عیسائیوں کے خلاف ظلم و ستم سے بھرا پڑا ہے۔

ایران کے عیسائی رکن پارلیمنٹ یوناتھن بت کلیا نے اپنے تحریری بیان میں انیس سو بارہ، انیس سو چودہ اور انیس سو ستر میں حکومت برطانیہ کے تیار کردہ گروہوں کے ہاتھوں سے عاشوری اور کلدانی عیسائیوں کے قتل عام کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہےکہ بی بی سی نے ان حقائق پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18