Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 91260
Published : 12/1/2016 15:40

سعودی عرب شام کے بحران کو فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے پر اصرار کرتا رہا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب شام کے بحران کو ہمیشہ فوجی طاقت کے ذریعے کہ جس میں بے گناہ شہریوں کا قتل عام ہو حل کرنے پر اصرار کرتا رہا ہے

وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے تہران میں جرمنی کے سابق چانسلر گرہارڈ شروڈر سے ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ذمہ دارانہ طریقے سے اور تعمیری انداز میں شام کے بحران کے حل کی کوشش کی ہے اور ایران سمجھتا ہے کہ شام کا بحران صرف سیاسی طریقے سے ہی حل ہو سکتا ہے -

انہوں نے علاقے کو بدامنی کا شکار بنانے میں سعودی عرب کے انتہا پسندانہ نظریات کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تکفیری اور انتہا پسندانہ نظریات علاقے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں - انہوں نے کہا تکفیری نظریے کا منبع اور اس کا مالی سرچشمہ سعودی عرب ہے -

وزیرخارجہ جواد ظریف نے سعودی عرب کے ذریعے ایرانو فوبیا پھیلانے سے پیدا ہونے والی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے دنیا کے مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ کو جو خط لکھا ہے اس میں اس نے گذشتہ دو برسوں کے دوران سعودی عرب کے ذریعے پھیلائے جارہے ایرانو فوبیا اور اس سے متعلق اقدامات کی پوری طرح وضاحت کی ہے -

جرمنی کے سابق چانسلر گرہارڈ شروڈر نے بھی اس ملاقات میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کا وقت قریب آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے صنعتکار اور کمپنیاں ایران کے سبھی صنعتی اور اقتصادی میدانوں میں شرکت کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کر رہی ہیں -

جرمنی کے سابق چانسلر نے مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد کی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو توقع ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے پر ہر طرح کا اختلاف ختم ہوجانے کے بعد وہ علاقائی بحرانوں کے حل کے لئے ایران کی توانائیوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکے گا - جرمنی کے سابق چانسلر جرمن تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک وفد کے ہمراہ پیر کو تہران پہنچے ہیں -


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20