Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 91309
Published : 13/1/2016 11:24

سعودی حکومت کے جارحانہ اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

سعودی عرب میں سیاسی مخالفین اور کارکنوں کے خلاف آل سعود حکومت کے وسیع پیمانے پر تشدد آمیز اقدامات پر، جن کی وجہ سے سعودی رائے عامہ میں سخت بے چینی بھی پائی جاتی ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

مغرب کے آئینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے، جو آل سعود کی حمایت میں اپنے ملکوں کی حکومتوں کے موقف کی پپروی کرتے ہوئے عام طور پر خاموش رہنے کی پالیسی اپنائے رہتی ہیں یا پھر آل سعود کے مجرمانہ اقدامات کے مقابلے میں معذرت خواہانہ رویّہ اپناتی ہیں، کچھ عرصے سے اپنی رائے عامہ کے دباؤ میں آکر سعودی حکومت پر تنقیدیں شروع کردی ہیں۔

اس درمیان ہیومن رائٹس واچ نےسعودی عرب میں شہری حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالی، سیاسی مخالفین کی سرکوبی اور آزادی بیان کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطی کے امور کے شعبے کی سربراہ سارالی ویٹسن نے کہا ہے کہ سعودی حکومت، اپنے شہریوں پر اصلاح پسندانہ نظریات بیان کرنے کی بنا پر تشدد کرتی ہے، انہیں جیلوں میں ڈال دیتی ہے یا پھر موت کی سزا دے د یتی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ممتاز عالم دین آیت اللہ باقر نمر کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنے کی بنا پر اس وقت پوری دنیا میں آل سعود حکومت کی مذمت کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے سعودی شاہ سلمان کی حکومت کی گذشتہ ایک سالہ کارکردگی کے بارے میں اپنی رپورٹ میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال کی اچھی تصویر پیش نہیں کی ہے۔ مذکورہ تنظیم نے شاہ سلمان کی ایک سالہ حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کے فرمان کے تحت کام کرنےوالی عدالتوں نے اصلاحات کے حامیوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو طویل المدت قید کی سزا، حتی موت کی سزا سنائی ہے۔

سعودی عرب کے نئے شاہ نے یمن کے غریب عوام پر حملے اور یمن کے اسپتالوں، نابینا بچوں کے تربیتی مراکز، اسکولوں اور دیگر شہری مراکز پر بمباری کرنے کے علاوہ، خود سعودی عرب کے اندر بھی اپنے سیاسی مخالفین منجملہ آیت اللہ باقر النمر جیسے ممتاز عالم دین کا سر قلم کرنے جیسے انسانیت سوز اقدامات کئے ہیں۔

آل سعود کا نظام حکومت ایک موروثی نظام ہے اور اس ملک کے عوام، حکومتی امور میں کسی بھی طرح کا کوئی رول نہیں رکھتے اور پارلیمنٹ میں بھی عوام کی نمائندگی نہیں ہوتی ۔ جبکہ سعودی عرب کے اندرونی سیاسی حالات سے بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان میں ایک سے دوسرے کے ہاتھ میں اقتدار کی منتقلی سے بھی اس استبدادی حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آتی۔

سعودی حکومت کے اقدامات، جو ایک ڈکٹیٹر حکومت ہے، تشدد اور سرکوبی پر مشتمل ہیں اور ہر ڈکٹیٹر حکومت کی طرح اس کی بھی کوشش رہتی ہے کہ اپنے شہریوں کو کچل کر اپنے استبدادی نظام کو باقی رکھنے کا راستہ ہموار رکھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت سعودی حکومت کی جیلوں میں تیس ہزار سے زائد سیاسی قیدی موجود ہیں جس سے سعودی شہریوں کے سلسلے میں آل سعود حکومت کے تشدد پسندانہ اقدامات اور روّیوں کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔

سعودی حکومت کی تشدد پسندانہ، آمرانہ اور استبدادی سوچ کی وجہ سے ہی عالمی رائے عامہ اس حکومت کو ایک رجعت پسند اور قرون وسطائی حکومت کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20