Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 91316
Published : 13/1/2016 11:46

اردوغان کی جانب سے استنبول دھماکے کی مذمت

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول دہشت گردانہ بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔

ترک صدر نے انقرہ میں اپنے ایک خطاب میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ استنبول میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والا شخص شامی باشندہ تھا کہا کہ ہمارے نزدیک داعش اور پی کے کے، کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

رجب طیب اردوغان نے کہا کہ کچھ لوگ انسانی حقوق کے مسئلے کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے بہانے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استنبول دہشت گردانہ بم دھماکے کا مقصد، ترک قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور پوری دنیا کے لئے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہمیں کردوں سے کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ ہماری مشکل دہشت گردوں کے حامیوں سے ہے۔ ترک صدر نے دعوی کیا کہ ترکی کے جتنی، کسی بھی ملک نے داعش کے خلاف جنگ نہیں کی۔

واضح رہے کہ اردوغان نے یہ دعوی ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش، شام اور عراق کا تیل چوری اور اسمگل کرکے ترکی لے جاتا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ داعش مخالف اتحاد کے طیارے جب بھی داعش کے ہاتھوں چوری کے تیل کے آئیل ٹینکروں پر حملہ کرنا چاہتے تھے تو پہلے ڈرائیوروں کو وارننگ دے دیا کرتے تھے کیونکہ داعش مخالف اتحاد کو اس بات کا علم ہے کہ ان آئیل ٹینکروں کے ڈرائیور، ترکی کے شہری ہیں۔

دوسری جانب ترکی کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے بارہا ترک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش کے لئے اپنی حمایت اور تعاون بند کردے۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں خاص طور پر یورپی ملکوں سے داعش کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے شام جانے والے زیادہ تر دہشت گرد، ترکی کے ہی راستے شام گئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10