Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 91454
Published : 16/1/2016 10:20

امن مذاکرات کے بارے میں افغان صدر کا محتاط ردعمل

افغانستان کے صدر نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات پر محتاط طریقے سے پرامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ افغانستان کی جنگ کے کئی پہلو ہیں۔

افغانستان کے ایوان صدر کے پریس دفتر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر اشرف غنی نے افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالرؤف ابراہیمی اور سینٹ کے چیئرمین فضل ہادی، دونوں ایوانوں کی منتظمہ کمیٹیوں کے ممبران، اعلی مصالحتی کونسل کے ارکان اور افغانستان کی جہادی کونسل کے رہنماؤں سے افغانستان میں امن کے عمل اور پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کے بارے میں بات چیت کی۔

افغانستان کے صدر نے ملک میں قیام امن سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے عوام کے مختلف طبقوں سے صلاح و مشورے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں جو حالات رونما ہوئے ہیں ان کے پیش نظر وہ افغانستان کے امن مذاکرات کی کامیابی کے بار ے میں محتاط طریقے سے پرامید ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ آج دنیا کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کی صورت حال کے کئی رخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گرد، پاکستانی طالبان جو پاکستانی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان میں داخل ہو جاتے ہیں، حقانی دہشت گرد گروہ، القاعدہ اور داعش ان سبھی نے ہمیشہ افغانستان میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلانے کی کوشش ہے۔

افغانستان کی اعلی مصالحتی کونسل کے ارکان نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ افغانستان کی جنگ علاقائی پہلوؤں کی حامل ہے اور چونکہ افغانستان میں ایک اسلامی نظام حکومت قائم ہے اور اس کا اپنا بنیادی آئین ہے اس لئے مسلح مخالفین سے جنگ کی کوئی وجہ نہیں ہے اور یہ جنگ جلد سے جلد بند ہونی چاہئے۔

افغانستان کے ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جہادی کونسل کے رہنماؤں نے بھی صدر اشرف غنی سے ملاقات میں کہا کہ اس وقت ملک میں امن پسندی کی فضا پہلے سے زیادہ ہموار ہوئی ہے اور وہ امن مذاکرات کے لئے قومی اتحاد کی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16