Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 93539
Published : 24/1/2016 17:40

ایران اور چین نے سترہ معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے

ایران اور چین نے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی غرض سے سترہ معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

ایران اور چین کے درمیان تعاون کے معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہفتے کے روز تہران کے ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر حسن روحانی اور صدر شی جین پینگ کے علاوہ دونوں ملکوں کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔

شاہراہ ریشم کے قیام اور اسے اقتصادی راہداری میں تبدیل کرنا، پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا استعمال، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون، ماحولیات کے تحفظ، نیز صنعت، معدنیات اور سرمایہ کاری کے میدان میں تعاون کا فروغ ایسے معاہدے ہیں جن پر دونوں ملکوں کے متعلقہ حکام نے دستخط کئے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیلی کمیونی کیشن ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تہران مشہد فاسٹ ٹریک ٹرین سروس میں سرمایہ کاری، افرادی قوت کی تربیت، ثقافتی ، تعلیمی اور فنی شعبوں میں وفود کے تبادلے اور کسٹم اداروں کے درمیان تعاون کا فروغ،ایسے معاملات ہیں جن پر دونوں ملکوں نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جنہیں بعد میں معاہد ے کی شکل دی جاسکے گی۔

دونوں ملکوں نے تعاون کی کئی دوسری یادداشتوں پربھی دستخط کیے ہیں جن کے تحت ایران اور چین ، شاہراہ ریشم سائنٹفک بینک کے قیام کے علاوہ ، ذرائع ابلاغ کے شعبے میں بھی ایک دوسرے کےساتھ تعاون کو فروغ دیں گے۔ جبکہ ایران کے جزیرہ کیش اور چین کےگوان جو فری پائیلٹ ٹریڈ زون کے درمیان مشترکہ تعاون کے فروغ پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔ 
معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی تقریب سے قبل ایران کے صدر حسن روحانی اور چین کے صدر شی جین پینگ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم آیندہ دس برس کے دوران، چھے سو ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرحسن روحانی نے کہاکہ انہوں نے صدر شی جین پینگ کے ساتھ ایران چین اسٹریٹیجک تعاون کے پچیس سالہ منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ چینی صدر کایہ دورہ ، ایران پر عا‏ئد پابندیوں کے خاتمے کے بعد انجام پارہا ہے اور دونوں ممالک تعاون کے نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔ 
چین کے صدر شی جین پینگ نے اس موقع پر کہا کہ وہ بیجنگ اور تہران کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتوں کو مضبوط بنانےکی غرض سے ایران آئے ہیں۔

انہوں نے دورہ تہران کی دعوت دینے پر صدر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا مستقبل انتہائی تابناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے اور ایران کو بھی اپنے لیے ایک اہم تجارتی شریک تصور کرتا ہے۔

صدر شی جین پینگ نے کہا کہ انہوں نے صدر حسن روحانی کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات کے فروغ پر بھی بات چیت کی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے اصولی موقف کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیجنگ اور تہران نے ایٹمی میدان میں تعاون اور مشترکہ صنعتی زون کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے ۔

صدر شی جین پینگ نے ایران اور چین کے درمیان دیرینہ تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چین اور ایران دو اہم ترقی پذیر ملک ہیں اور ان کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں اتفاق رائے کا ہوناضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے دورہ تہران سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ ، خطے میں امن و استحکام کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12