Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188181
Published : 4/7/2017 16:54

حسن نصراللہ کی تقریریں اسرائیل یونیورسٹی کے نصاب میں شامل

سید حسن نصر اللہ وہ پہلے عرب لیڈر ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی پلانٹ پر حملہ کی دھمکی دی،آج ان کی تقریریں تل ابیب یونیورسٹی میں ایک سبجکٹ کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں۔


ولایت پورٹل:سید حسن نصر اللہ کی تقریروں نے اسرائیل پر کئی طرح کا اثر ڈالا ہے :
۱۔ اسرائیل کے سیاسی اور سلامتی حلقوں میں حسن نصر اللہ کی تقریروں کا اثر:
تل ابیب یونیوسٹی کے فن خطابت  کے شعبہ میں  حسن نصر اللہ کی تقریریں ایک سبجکٹ کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  ان کی شخصیت اسرائیلوں پر کتنی اثر انداز ہے ، اسی ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدہ دار نے کہا:نصراللہ وہ پہلے عرب ہیں جنہوں نے اسرائیل کو اس کے ڈیمونا ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی۔
۲۔ پروپیگنڈا جنگ کے خلاف لوگوں کا دفاع
اسرائیلی نفسیاتی جنگ کے ماہر Yiwu Liuyuan نے کہا:ہمارے لیے تاریخی عبرت ہونا چاہیے  کہ ایک ملک  دشمن کی پروپگندہ جنگ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور اپنا دفاع کرنے  پر مجبور کر دیا۔
۳۔ حسن نصر اللہ کی تقریریں  اسرائیلی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہوتی ہیں
قابل ذکر ہے کہ  اسرائیلی ٹی ۔وی پر  سید حسن نصر اللہ کی تقریریں لائو ٹیلی کاسٹ ہوتی  ہیں حتی کہ 2006ء میں  لبنان اور اسرائیل کی جنگ کے دوران جب سید   اسرائیل کو کھلی دھمکی  دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جیت یقینا ہماری ہی ہوگی ،نیز انھوں نے اسرائیل  بیڑوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی  بھی دی تھی تب بھی  ایک منٹ کے لیے ان کی تقریر کو کاٹا نہیں گیا لیکن ا س کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت ان کی تقریر لائو آرہی تھی تو اس میں سے کسی بھی حصہ کو کاٹنا ممکن نہیں تھا۔
فانوس




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13