Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188765
Published : 31/7/2017 18:17

سرکار بحرالعلوم علن صاحب کی حیات و خدمات

اگرچہ سرکار علن صاحب قبلہ کی بہت سی کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آئیں لیکن عرصہ دراز سے برصغیر خصوصاً ہندوستان میں شیعہ مراکز و مدارس انحطاط کا شکار ہیں جس کے سبب بزرگان دین کے یہ بیش بہا قیمتی جواہر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اور نہ جانے کس کتابخانے کے قبرستان میں پڑے ہونگے،آج پھر ان بزرگوں کے آثار کو احیاء کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ برصغیر میں شیعیت کا مستقبل اپنے روشن ماضی سے کچھ شعائیں لے سکے۔


ولایت پورٹل:بحرالعلوم مولانا سید محمد حسین بن ملک العلماء سید بندہ حسین صاحب کی تاریخ ولادت یکم رجب سن ۱۲۶۷ ہجری ہے،آپ کے چھوٹے بھائی جناب ملاذ العلماء سید ابو الحسن لکھنؤ میں بچھن صاحب اور آپ علن صاحب کہلاتے تھے،آپ کے والد نے یحیٰ و زکریا نام رکھا تھا،لیکن یہ نام مشہور نہیں ہوئے۔
سرکار علن صاحب نہایت خوبصورت،ذہین،اعلٰی درجے کے صاحب حافظہ تھے،الفیہ ابن مالک یاد کی اور آخر تک اس کے اشعار یاد رہے۔
مولانا سید حسن صاحب،ملا علی نقی ،مفتی محمد عباس صاحب اور اپنے والد ماجد سے صرف و نحو ،تفسیر و عقائد و ادب و معقولات کا درس مکمل کیا۔
طب کی کتابیں حکیم کمال الدین موہانی اور حکیم نبا صاحب سے پڑھیں،اور حکیم نبا صاحب کے مطب میں بھی بیٹھتے تھے۔
ذہانت و ذکاوت کی وجہ سے فراغت کے بعد جید الاستعداد ہوئے،لیکن دینی فرائض چھوٹے بھائی کے سپرد رہے،خود مطب کیا اور بڑے معرکے کے علاج کئے،جناب مفتی صاحب نے اسی رجحان کے مطابق آپ سے منجزات مریض پر رسالہ لکھوایا جسے دیکھ کر مفتی صاحب نے اجازہ دیا۔
بچپنے میں لکھنؤ کے عام دستور کے مطابق فنون سپہ گری  بھی سیکھے،جناب علن صاحب خوش باش،طبیب اور عالم و مدرس تھے،مریضوں سے بہ شفقت اور طلباء سے بہ احترام سلوک کرتے تھے،اور ان سے اولاد کی طرح محبت کرتے تھے۔
بکثرت طلباء حاضر ہوتے ،آپ شوق سے پڑھاتے،ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ طلوع آفتاب سے پہلے جناب آقا حسن صاحب کو پڑھاتے ،اس کے بعد گیارہ بجے تک درس جاری رہتا،پھر تین بجے سے دس بجے رات تک پڑھاتے رہتے تھے،آپ کے درس میں طب،منطق،فقہ و اصول، کلام و ادب وغیرہ کے طلباء میں سنی اور شیعہ حاضر ہوتے تھے۔
کم و بیش ۱۵ برس اسی عالم میں رہے،سن ۱۲۹۶ ہجری میں والد کی وفات کے بعد  تین سال نجف اشرف میں شیخ العراقین آیت اللہ العظمٰی زین العابدین مازندرانی کے درس خارج میں شرکت کی اور شیخ نے اجازہ حدیث و فتوی عطا فرمایا۔
سن ۱۳۰۹ میں ملاذ العلماء بچھن صاحب نے رحلت کی مسند فتوی اور اجتہاد آپ کے نام ہوئی۔
آپ نے اس دوران کثیر شاگردوں کی تربیت کرکے برصغیر میں پھیلی شیعت کی خدمت کے لئے ارسال کئے،اور بہت سی کتابیں بھی لکھیں۔
قلمی آثار
۱۔الروض الاریض فی منجزات المریض۔(عربی)
۲۔القول الاسد فی توبۃ المرتد(فقہ)
۳۔شرح زبدۃ الاصول
۴۔رسالہ مختصر در بحث غنا
۵۔رسالہ مفصل در غنا
۶۔تکملۃ قواعد الموریث
۷۔الحدیث الحسن فی جواز التسامح فی ادلۃ السنن(عربی)
۸۔بناء الاسلام
۹۔عملیہ در طہارت و صلاۃ
۱۰۔تحریر الرائق فی حل الدقائق
۱۱۔کتاب المواعظ
۱۲۔کتاب المسائل
وفات
آسمان بر صغیر پر چمکنے والا علم و فضل کا یہ آفتاب سن ۱۳۲۵ ہجری مطابق ۱۹۰۷ء کو غروب ہوگیا،جس کے وجود سے محفل علماء و طلباء آباد تھی ،جس نے شہر لکھنؤ کو ایک آفاقی شہرت عطا کی تھی،غرض موت کی آغوش میں ہمیشہ کے لئے سو گئے لیکن ان کے آثار آج بھی تشنگان حقیقت کے لئے ایک چشمہ فیض ہیں۔
اگرچہ سرکار علن صاحب قبلہ کی بہت سی کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آئیں لیکن عرصہ دراز سے برصغیر خصوصاً ہندوستان میں شیعہ مراکز و مدارس انحطاط کا شکار ہیں جس کے سبب بزرگان دین کے یہ بیش بہا قیمتی جواہر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اور نہ جانے کس کتابخانے کے قبرستان میں پڑے ہونگے،آج پھر ان بزرگوں کے آثار کو احیاء کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ برصغیر میں شیعیت کا مستقبل اپنے روشن ماضی سے کچھ شعائیں لے سکے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16