Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188881
Published : 6/8/2017 17:10

خطرناک وائرس ... (تجزیہ6)

قرآنی آیات کے مطابق گناہوں کی مغفرت کے لیے اولیائے خدا سے توسل کیا جا سکتا ہےتاکہ وہ خدا سے بخشش اور مغفرت طلب کریں۔ یہ خود شفاعت اور تقریب کے لیے وسیلہ کی تائید میں ایک مضبوط دلیل اور ثبوت ہے البتہ اس سے اس نکتے کا بھی پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر خدا کے نزدیک اپنے اعلیٰ مقام و مرتبے کی بنا پر خدا کے نزدیک وسیلہ بن سکتے ہیں۔

ولایت پورٹل:سورہ نسا کی آیت چونسٹھ میں بھی توسل کے بارے میں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "اور ہم نے کسی رسول کو بھی نہیں بھیجا ہے مگر صرف اس لیے کہ حکم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے"۔
اس آیت کے مطابق گناہوں کی مغفرت اور خدا کے تقرب کا ایک راستہ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل اور گناہ گاروں کی بخشش کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کرنا ہے۔ اس لیے گناہ گاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ ان کی بخشش کی دعا کریں۔ اس آیت سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وسیلہ قرار دینا اور گناہوں کی بخشش کے لیے پیغمبر سے توسل کرنا، قرآن کریم نے ان کی مکمل تائید کی ہے۔ یہاں پر تکفیری وہابی یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی رحلت کے بعد کسی کے لیے دعا نہیں کر سکتے۔ سورہ آل عمران کی آیات ایک سو انہتر سے لے کر ایک سو اکہتر تک میں اس سلسلے میں اہم نکات موجود ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے: "اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں"۔ اللہ کی طرف سے ملنے والے فضل و کرم کی وجہ سے خوش ہیں اور جو ابھی تک ان سے ملحق نہیں ہو سکے ہیں ان کے بارے میں یہ خوش خبری رکھتے ہیں کہ ان کے واسطے بھی نہ کوئی خوف ہے اور نہ حزن۔ وہ اپنے پروردگار کی نعمت، اس کے فضل اور اس کے وعدے سے خوش ہیں کہ صاحبان ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔
سعودی عرب کا مفتی اعظم کہتا ہے، توسل کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رابطہ مرنے کے بعد اس دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے اور وہ کسی کے لیے دعا نہیں کر سکتا اور کوئی بھی کام کرنے سے عاجز ہے۔
لیکن قرآن اس نظریہ کو سختی سے رد کرتا ہے۔ جن آیات کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ان کے مطابق شہداء زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ یہ آیات شہدا کی خوشی اور مسرت کو بیان کرتی ہیں، وہ زندہ لوگوں کے حالات سے آگاہ ہیں، اور وہ زندہ لوگوں کے خود سے ملحق ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے بارے میں خوش خبری رکھتے ہیں۔
اب کس طرح ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہ جن کامقام و مرتبہ تاریخ کے تمام شہدا سے اعلی اور برتر ہے، رحلت کے بعد کوئی بھی کام انجام دینے سے عاجز ہوں اور کسی کے لیے دعا نہ کر سکیں اور ان سے توسل شرک اور حرام سمجھا جائے؟
ابن حجر مکی کتاب صواعق محرقہ میں امام شافعی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کرتے تھے اور کہتے تھے: "خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا وسیلہ ہے۔ وہ خدا کی بارگاہ میں تقرب کا سبب ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کے سبب کل قیامت کے دن میرا نامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا"۔
یقینی طور پر موت کا مطلب انسان کاخاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک اور دنیا میں زندگی کا آغاز ہے۔ تکفیری وہابیوں کے برخلاف کہ جو کسی مرنے والے شخص سے دعا کی درخواست کو ممنوع اور شرکت قرار دیتے ہیں۔ بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے کہ پیغمبر کا مقام و مرتبہ ان کی مادی زندگی اور جسم سے تعلق نہیں رکھتا ہے کہ جو ان کی رحلت کے ساتھ ہی ختم ہو جائے۔  رسول خدا کے اعلی فضائل و صفات اور خدا کی بارگاہ میں ان کی ذات سے توسل کرنا صرف ان کی زندگی سے ہی تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ رسول خدا رحلت کے بعد بھی ان خصوصیات اور مقام و مرتبے کے حامل ہیں۔ پس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بزرگان دین سے توسل ان کی زندگی کے دور سے مختص نہیں ہے۔ ان کی بابرکت دنیاوی زندگی کے خاتمے کے بعد بھی ان سے توسل کا امکان موجود ہے۔
تکفیری سلفی شفاعت کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور اس پر عقیدہ رکھنے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب مختلف اسلامی فرقوں میں چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، شفاعت کے موضوع کے بارے میں بنیادی اختلاف نظر نہیں ہے۔ دسویں صدی ہجری کے مشہور اہل سنت دانشور علی بن احمد سمہودی اپنی کتاب وفاء الوفاء میں لکھتے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، ان کے مقام و مرتبے اور شخصیت سے مدد مانگنا اور شفاعت طلب کرنا جائز ہے چاہے وہ ان کی ولادت سے پہلے ہو چاہے بعد میں اور چاہے ان کی رحلت کے بعد ہو، چاہے عالم برزخ میں ہو یا قیامت کے دن۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کی مشہور روایت عمر بن خطاب سے نقل کرتے ہیں کہ: آدم نے اس معلومات کی بنا پر کہ جو ان کو مستقبل میں پیغمبر اسلام کی ولادت کے بارے میں تھیں، خدا کی بارگاہ میں یوں عرض کیا: خدایا بحق محمد (ص) تجھ سے تقاضا کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے۔
تسنیم





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19