Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190250
Published : 28/10/2017 16:57

نہج البلاغہ کی نظر میں راتوں کو عبادت کرنے والے

عبادت کی دنیا میں شب و روز نہیں ہوتے،اس لئے کہ وہاں صرف نور ہی نور ہے،اندھیرے اور تاریکی یا مصیبت و کدورت کا وجود نہیں ہے،سراسر صفاء وخلوص ہے،نہج البلاغہ کی نظر میں بڑا ہی با سعادت اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس دنیائے عبادت میں قدم اٹھائے اور اس دنیا کی نسیم جانفزا اس کا استقبال اور نوازش کرے جو اس دنیا میں قدم رکھتا ہے اس کو پھر فکر نہیں رہتی کہ اس مادی اور جسمانی دنیا میں اس کا سر حریر ودیبا پر ہے یا مٹی کے ڈھیلے پر۔


ولایت پورٹل:نہج البلاغہ کی نظر میں عبادت کی دنیا ایک دوسری دنیا ہے،دنیائے عبادت لذت سے لبریز ہے،ایسی لذتیں جن کا اس تکوّنی مادی دنیا کی لذتوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا،دنیائے عبادت جوش و حرکت اور سیر و سفر سے پر ہے،لیکن ایسا سفر جو مصر،عراق،شام یا کسی دوسرے شہر پرختم نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسے شہر پر ختم ہوتا ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے،عبادت کی دنیا میں شب و روز نہیں ہوتے،اس لئے کہ وہاں صرف نور ہی نور ہے،اندھیرے اور تاریکی یا مصیبت و کدورت کا وجود نہیں ہے،سراسر صفاء وخلوص ہے،نہج البلاغہ کی نظر میں بڑا ہی با سعادت اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس دنیائے عبادت میں قدم اٹھائے اور اس دنیا کی نسیم جانفزا اس کا استقبال اور نوازش کرے جو اس دنیا میں قدم رکھتا ہے اس کو پھر فکر نہیں رہتی کہ اس مادی اور جسمانی دنیا میں اس کا سر حریر ودیبا پر ہے  یا مٹی کے ڈھیلے پر:«طُوْبیٰ لِنَفْسٍ اَدَّتْ اِلٰی رَبِّھَا فَرَضَہا و  عرکت بجنبہا بوسہا و ہجرت فی اللّیل غمضہا حتّی اذا اغلب الکری علیہا افترشت ارضہا و توسّدت کفہا فی معشر اسہر عیونہم خوف معادہم و تجافت عن مضاجعہم جنوبہم، و ہمہمت بذکر ربّہم شفاہہم و تقشّعت بطول استغفارہم ذنوبہم، اولٰئک جزب اللہ الا انّ حزب الہ ہم المفلحون»۔
ترجمہ:کتنا خوش نصیب وباسعادت ہے وہ شخص جس نے اپنے پروردگار کے فرائض کو پورا کیا (اللہ اس کا مددگار اور حمد و قل ھو اللہ اس کا کام ہے ) سختی  اور مصیبت میں صبر کئے پڑا رہا ،راتوں کو اپنی آنکھیں نیند سے بیزار رکھتا ہے اور رات جاگ کر بسر کرتا ہے،جب نیند کا غلبہ ہوا تو ہاتھ کو تکیہ بناکر زمین کو ہی بستر بنا لیتا ہے،یہ اس گروہ سے ہے جن کی آنکھیں روز حشر کی فکر میں بیدار پہلو بچھونوں سے دور اور ہونٹ یاد خدا میں زمزمہ سنج رہتے ہیں ان کے مسلسل استغفار سے خود بخود گناہ کے بادل چھٹ جاتے ہیں یہی اللہ کا گروہ ہے اور بیشک اللہ کا گروہ ہی کامران و کامیاب ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13