Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 91007
Published : 9/1/2016 17:23

آیت اللہ باقر نمر کو شہید کئے جانے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مظاہرے جاری

آیت اللہ نمر باقرنمر کو شہید کیے جانے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ آل سعود حکومت سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کے شیعہ مسلمانوں نے مظاہرے کر کے آل سعود کے حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ آیت اللہ نمرباقر نمر کو شہید کیے جانے کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں میں شریک لوگ آل سعود مردہ باد کے نعرے لگار ہے تھے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر کے آبائی شہر عوامیہ میں بھی سیاہ لباس میں ملبوس سیکڑوں لوگوں نے سڑکوں پر مارچ کیا اور آل سعود کے ہاتھوں آیت اللہ نمر باقر نمر کو شہید کیے جانے کی مذمت کی۔

عرب اور اسلامی ملکوں کے ساتھ ہی مغربی ملکوں میں بھی آیت اللہ نمرباقر نمر کو شہید کیے جانے کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور عالمی رائے عامہ میں بھی آل سعودکے اس گھناؤنے اقدام پر نفرت کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔

سیکڑوں جرمن شہریوں نے فرینکفرٹ میں سعودی قونصل خانے کے سامنے اجتماع کیا اور آیت اللہ نمبر باقر نمر کو سزائے موت دے کر شہید کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ مظاہرین نے حکومت جرمنی سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات پر نظرثانی کرے۔ جرمنی کے کثیر الاشاعت اخبار بیلد نے چند روز قبل یہ شہ سرخی لگائی تھی کہ سعودی عرب دنیا میں تیل اور دہشت گردی کے سوا کچھ برآمد نہیں کرتا ہے اور اپنے اقدامات جاری رکھنے کے لیے ہمیں رشوت بھی دیتا ہے۔ یہ رپورٹ تیار کرنے والے جرمن صحافی یولیان رائشلت نے لکھا ہے کہ سعودی ہمارے قاتل دوست ہیں۔ ہمارے اتحادیوں کے ہاتھوں آیت اللہ نمر سمیت سینتالیس افراد کو اجتماعی سزائے موت دیئے جانے پر واشنگٹن سے لے کر برلن تک تمام مغربی ملکوں نے سعودیوں کے اقدام پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

سوئیزرلینڈ کے عوام نے بھی مظاہرے اور اجتماعات منعقد کر کے آیت اللہ نمرباقر نمر کو شہید کیے جانے پر سعودی حکمرانوں سے نفرت و بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ سوئیزر لینڈ کے مسلمان برن میں سعودی سفارت خانے کے سامنے جمع ہوئے اور انہوں نے آیت اللہ نمرباقر نمر کو شہید کیے جانے کی مذمت کی۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں آیت اللہ نمرباقر نمر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور آل سعود حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ اور عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی حکومت کے مجرمانہ اقدامات رکوانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

کینیڈا کے عوام نے بھی آیت اللہ نمرباقر نمر کو شہید کیے جانے کے خلاف دارالحکومت اوٹاوا سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے کیے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد نے اوٹاوا میں کینیڈا کی پارلیمنٹ کے سامنے مارچ کیا اور سرکردہ شیعہ رہنما آیت اللہ نمر باقرنمر کو شہید کیے جانے کی مذمت میں نعرے لگائے۔ مظاہرین نے سعودی جرائم کی روک تھام کے لیے عالمی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔

برطانیہ کے مخلتف شہروں بالخصوص لندن میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرہ کرکے آل سعود سے اپنی نفرت کا اعلان کیا ۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19